ابنا: پاکستان کے عوام نے صوبہ گلگت ميں شیعوں کے قتل عام کے خلاف گزشتہ روز جمعہ کی نماز کے بعد پارلیمنٹ کے سامنے زبردست مظاہرے کرکے اپنے شدید غم و غصہ کا اظہار کیا اور امریکہ اور اسرائیل کے خلاف نعرے لگائے۔
گلگت اور بلتستان کے مسلمانوں نے بھی نماز جمعہ کے بعد شہر چلاس کے قریب فرقہ پرستوں اور دہشتگردوں کے ہاتھوں اشیعہ مسلمانوں کے بے رحیمانہ قتل کے خلاف زبردست مظاہرہ کیا اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ جتنی جلدی ممکن ہو اس حملے میں ملوث شر پسند عناصروں کو گرفتار کرکے انھیں قرار واقعی سزادے۔
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے علاوہ دوسرے شہروں منجملہ لاہور ، کراچی، راولپنڈی، کوئٹہ، فیصل آباد، حیدر آباد، پشاوراور ڈیرہ اسماعیل خان میں بھی شیعوں کے قتل عام کے خلاف زبردست مظاہرے ہوئے، مظاہرین نے امریکہ اور اسرائیل کے خلاف اپنے غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے تاکید کی کہ بیرونی طاقتیں پاکستان کے سرحد پر ہمسایہ دوست ممالک کی ثبات و پائداری کو نقصان پہنچانا چاہتی ہیں اس لۓ ہم حکومت پاکستان سے مطالبہ کر تے ہیں کہ ان علاقوں میں ہونے والے دہشتگردانہ کاروائیوں کی روک تھام کے لئے جلد از جلد اقدام کرے۔
ادھر گزشتہ چند مہینوں میں پاکستان کے مختلف علاقوں بالخصوص پاراچنار، گلگت، پشاور اور کراچی میں شیعوں کے خلاف دہشتگردانہ حملوں میں شدید اضافہ ہوا ہے اور پاکستان کے اعلی حکام کے خبردار کرنے کے باوجود دہشت گرد پوری توانائی صرف کرکے عام لوگوں پر تشدد آمیز حملے کررہے ہیں۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ فرقہ پرست اور دہشتگرد تنظیمیں مسلمانوں کے تمام فرقوں پر حملہ کررہی ہیں تا کہ پاکستان کی سالمیت اور قومی اتحاد کو نقصان پہنچا کر ملک میں مذہبی اور فرقہ وارانہ اختلاف پیدا کردے۔
اسی بنا پر مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے نائب سیکریٹری علامہ محمد امین شہیدی نے کہا ہے کہ دشمن ، ملک کے امن و چین کو ختم کرنے کے درپے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بعید نہیں ہے کہ گلگت کے حملے میں امریکہ اور صیہونی حکومت کے شر پسند عناصر ملوث ہوں۔
صوبہ بلوچستان میں جمعیت علماء پاکستان کے سربراہ مولانا محمد قاسم کے قتل سے یہ بات ظاہر ہوجاتی ہے کہ دہشت گرد اپنے مقاصد و اہداف تک پہنچنے کے لئے ہر طرح کی جارحیت انجام دے رہے ہیں اور اپنے بدترین منشور کے ذریعے ملک میں ناامنی اور مذہبی اختلافات کا بیج بونے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں جب کہ ادھر چند برسوں کے دوران صوبہ بلوچستان میں طالبان اور اس کی انتہا پسند تنظیموں نے اب تک پانچ سو سے زائد افراد کو قتل کیا ہے ۔
پاکستان کے عوام کی نظر میں اگر اس ملک کی انتظامیہ اور عدالتی اداروں نے دہشت گردوں اور فرقہ پرستوں کی تشدد آمیز کاروائیوں کے خلاف بر وقت مثبت اقدام نہ کیا تویہ تمام فرقوں کو اپنا نشانہ بنا کر ملک میں مذہبی اختلافات و فسادات پھیلادیں گے اور اس ملک کے امن و سکون کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے فرقہ واریت کی آگ میں ڈھکیل دیں گے۔جب کہ یہ صورتحال کسی بھی اعتبار سے موجودہ حکومت کے لئے مفید واقع نہ ہوگی، کیونکہ پاکستان کی مخالف تنظیمیں منجملہ نواز شریف کی مسلم لیگ تنظیم نے حکومت پر الزام لگایا ہے کہ یہ حکومت ملک میں امن و چین برقرار کرنے اور حالات کو کنٹرول کرنے میں ناکام ہوچکی ہے ۔
.......
/169